زکوٰۃ کیلکولیٹر
معلوم کریں کہ اس سال آپ پر کتنی زکوٰۃ واجب ہے۔ آپ یہاں جو کچھ لکھتے ہیں وہ نہ ہمیں بھیجا جاتا ہے، نہ کہیں محفوظ ہوتا ہے۔
آپ کون سا نصاب استعمال کر رہے ہیں؟
زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب آپ کا مال نصاب سے بڑھ جائے۔ نصاب دو ہیں، اور علما میں اختلاف ہے کہ کون سا لیا جائے۔ چاندی کا نصاب کم ہے، اس لیے زیادہ لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اسی وجہ سے اسے منتخب کرتے ہیں۔
بنیاد: سونا فی گرام روپے 37,409 اور چاندی فی گرام روپے 582.49 ، مقرر کردہ تاریخ: 4 October 2026۔ دھاتوں کی قیمتیں روز بدلتی ہیں، اس لیے اگر آپ نصاب کے قریب ہیں تو آج کا نرخ ضرور دیکھ لیں۔
آپ کی ملکیت
کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس، اور گھر میں موجود نقدی۔
زیورات اور سکے۔ ایک تولہ 11.664 گرام کا ہوتا ہے۔
زیورات، سکے اور برتن۔
وہ رقم جو آپ نے کسی کو دی ہے اور واپسی کی توقع ہے۔
فروخت کے لیے رکھا ہوا مال، آج کی قیمتِ فروخت کے مطابق۔
سرٹیفکیٹ، حصص اور کمیٹی کی بچت۔
یہ رقم کل میزان سے منہا کر دی جاتی ہے۔
آپ کا نتیجہ
اوپر وہ خانے پُر کریں جو آپ پر لاگو ہوتے ہیں، رقم یہاں ظاہر ہو جائے گی۔
زکوٰۃ کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے
زکوٰۃ اس مال پر ہے جو بڑھتا ہے، ان چیزوں پر نہیں جو آپ استعمال کرتے ہیں۔ پہلی قسم کا جو مال آپ کے پاس ہے اسے جمع کریں، جو قرض ابھی واجب الادا ہیں وہ منہا کریں، اور اگر باقی مال ایک قمری سال تک نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ رہا ہو تو اس کا ڈھائی فیصد ادا کریں۔
زکوٰۃ میں شمار ہوتا ہے
- گھر اور بینک میں موجود نقدی
- سونا اور چاندی، چاہے زیرِ استعمال ہوں یا رکھے ہوں
- وہ رقم جو آپ نے دی ہے اور واپسی کی توقع ہے
- کاروبار میں فروخت کے لیے رکھا ہوا مال
- سرٹیفکیٹ، حصص اور کمیٹی کی بچت
شمار نہیں ہوتا
- وہ گھر جس میں آپ رہتے ہیں
- وہ گاڑی جو آپ استعمال کرتے ہیں
- زیرِ استعمال کپڑے اور فرنیچر
- آپ کے پیشے کے اوزار
- وہ قرض جو ابھی ادا کرنا ہیں، جو منہا کیے جاتے ہیں
ایک مثال
فرض کریں کسی کے بینک میں 500,000 روپے ہیں، پانچ تولے سونا ہے، اور اسی ماہ 100,000 روپے کا قرض ادا کرنا ہے۔ پانچ تولے 58.32 گرام ہوتے ہیں، جن کی آج کے نرخ پر قیمت تقریباً 2,181,693 روپے ہے۔ نقدی جمع کریں، قرض منہا کریں، تو قابلِ زکوٰۃ مال تقریباً 2,581,693 روپے بنتا ہے۔ یہ دونوں نصابوں سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ واجب ہے: ڈھائی فیصد، یعنی تقریباً 64,542 روپے۔
عام سوالات
نصاب کیا ہے، اور روپوں میں کتنا بنتا ہے؟
نصاب وہ کم از کم مال ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ یہ 87.48 گرام سونا یا 612.36 گرام چاندی مقرر ہے، اس لیے روپوں میں رقم دھات کی قیمت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اس صفحے کے نرخوں پر سونے کا نصاب تقریباً 32 لاکھ 70 ہزار روپے اور چاندی کا نصاب تقریباً 3 لاکھ 57 ہزار روپے بنتا ہے۔ آپ کے منتخب کردہ نصاب سے کم مال پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
سونے کا نصاب لوں یا چاندی کا؟
علما میں اختلاف ہے۔ چاندی کا نصاب کہیں کم ہے، اس لیے زیادہ لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور زیادہ دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسی وجہ سے اسے منتخب کرتے ہیں۔ ٹرسٹ دونوں دکھاتا ہے اور انتخاب آپ پر چھوڑتا ہے۔
زکوٰۃ کتنی ادا کرنی ہوتی ہے؟
اس مال کا ڈھائی فیصد جو ایک قمری سال آپ کے پاس رہا ہو، بشرطیکہ وہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ دس لاکھ روپے کے قابلِ زکوٰۃ مال پر زکوٰۃ 25,000 روپے بنتی ہے۔
زکوٰۃ میں کیا کیا شمار ہوتا ہے؟
نقد رقم اور بینک میں جمع رقم، سونا اور چاندی چاہے زیرِ استعمال ہوں یا رکھے ہوں، وہ رقم جو آپ نے دی ہے اور واپسی کی توقع ہے، کاروبار میں فروخت کے لیے رکھا ہوا مال، اور بچت سرٹیفکیٹ، حصص اور کمیٹی کی بچت۔ جو قرض ابھی ادا کرنا ہوں وہ منہا کیے جاتے ہیں۔
کیا شمار نہیں ہوتا؟
وہ گھر جس میں آپ رہتے ہیں، وہ گاڑی جو آپ چلاتے ہیں، زیرِ استعمال کپڑے اور فرنیچر، اور آپ کے پیشے کے اوزار۔ یہ استعمال کے لیے ہیں، بڑھوتری کے لیے نہیں، اس لیے ان پر زکوٰۃ نہیں۔
میرے بینک نے پہلے ہی زکوٰۃ کاٹ لی ہے۔ کیا وہ شمار ہوگی؟
جی ہاں۔ پاکستان میں بینک بعض اکاؤنٹس سے زکوٰۃ اس نصاب پر کاٹتے ہیں جس کا اعلان حکومت ہر رمضان میں کرتی ہے، اور وہ اس صفحے والی رقم سے الگ ہوتا ہے۔ جو رقم پہلے کٹ چکی ہو، وہ آپ کی واجب زکوٰۃ میں شمار ہو سکتی ہے۔
کیا اس کیلکولیٹر کے استعمال سے میری معلومات محفوظ ہوتی ہیں؟
نہیں۔ حساب آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے۔ آپ جو کچھ لکھتے ہیں وہ نہ ٹرسٹ کو بھیجا جاتا ہے، نہ محفوظ ہوتا ہے، نہ کہیں درج ہوتا ہے۔
یہ کیلکولیٹر کیا کرتا ہے اور کیا نہیں
یہ آپ کے درج کردہ مال پر 2.5% لاگو کرتا ہے، بشرطیکہ وہ مال آپ کے منتخب کردہ نصاب سے بڑھ جائے۔ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ مال آپ کے پاس ایک قمری سال رہا ہے، جو زکوٰۃ واجب ہونے کی شرط ہے۔
یہ ایک اندازہ ہے، کوئی شرعی فتویٰ نہیں۔ ذاتی استعمال کی جائیداد، زرعی پیداوار، مویشی، شراکت کے اثاثے اور پنشن کے بارے میں علما کی آرا مختلف ہیں اور یہ یہاں شامل نہیں۔ اگر آپ کا معاملہ سادہ نہ ہو تو کسی اہل عالم سے رجوع کریں۔
پاکستان میں بینک بعض اکاؤنٹس سے زکوٰۃ اس نصاب پر کاٹتے ہیں جس کا اعلان حکومت ہر رمضان میں کرتی ہے، اور وہ اوپر دی گئی رقم سے الگ ہوتا ہے۔ جو رقم پہلے ہی کٹ چکی ہو، وہ آپ کی واجب زکوٰۃ میں شمار ہو سکتی ہے۔
آپ کی زکوٰۃ اور ٹرسٹ سے متعلق سوالات یہاں بھیجے جا سکتے ہیں: oamt96@gmail.com.
ٹرسٹ زکوٰۃ کو کس طرح سنبھالتا ہے، یہ شفافیت کے صفحے پر درج ہے